LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کو بھارتی اسلحے کی فروخت: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تشویش

News Image
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو بھارت کی طرف سے اسلحے کی مسلسل فراہمی غزہ میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور مبینہ نسل کشی میں شراکت کا باعث بن سکتی ہے۔ نئی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی دفاعی سپلائی چین جنگی حالات میں اسرائیل کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے اسرائیل کو اسلحے اور دفاعی سازوسامان کی مسلسل برآمدات انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس بات کا شدید خدشہ موجود ہے کہ یہ دفاعی سپلائی چین غزہ میں جاری مبینہ نسل کشی اور جنگی جرائم میں بالواسطہ شراکت داری کا سبب بن سکتی ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تنازعات والے علاقوں میں ہتھیاروں کی فراہمی فوری طور پر بند کریں۔ مختلف میڈیا رپورٹس اور تحقیقی اداروں نے بھی اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور تکنیکی اشتراک کار میں ڈرونز اور دیگر فوجی آلات کی تیاری شامل ہے۔ یہ شراکت داری حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تجارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، غزہ کی حالیہ جنگ اور وہاں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے بعد اس نوعیت کے دفاعی تعلقات پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو ایسے وقت میں عسکری سازوسامان فراہم کرنا جب وہاں عام شہریوں کی بڑی تعداد جاں بحق ہو رہی ہو، بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے منافی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ تازہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک کو قانونی اور اخلاقی دباؤ کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام عالمی طاقتیں اور دفاعی برآمد کنندگان اپنے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کریں تاکہ تنازعات میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے۔