Technology
سوشل میڈیا پابندیاں اور کم عمر بچوں کی حفاظت: سیسیلیا رابنسن کا مؤقف
سیسیلیا رابنسن کا کہنا ہے کہ نوعمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں شاید فوری طور پر سو فیصد کامل نہ ہوں لیکن ہمیں کہیں نہ کہیں سے تو آغاز کرنا ہوگا۔ والدین پر اکیلے ذمہ داری ڈالنے کے بجائے اب اجتماعی لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔
سیسیلیا رابنسن نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنا اگرچہ ابتدائی طور پر مکمل طور پر بے عیب یا کامل نہیں ہوگا، تاہم اس سمت میں قدم اٹھانا انتہائی ضروری ہے۔ طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے نئی نسل کو بچانے کے لیے اصل ذمہ داری کس کی ہے۔ ماضی میں زیادہ تر یہ تمام تر بوجھ والدین پر ڈال دیا جاتا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی حد مقرر کریں، ان کے آلات کی کڑی مانیٹرنگ کریں اور ہر نئی آنے والی ڈیجیٹل ایپ یا پلیٹ فارم کو خود سمجھ کر بچوں کے ساتھ گفت و شنید کریں۔ بلاشبہ والدین کی اس معاملے میں بنیادی ذمہ داری اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن موجودہ دور کے پیچیدہ ڈیجیٹل ماحول میں صرف والدین کے بھروسے پر بچوں کو چھوڑ دینا اب ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور الگورتھمز اس طرح بنائے گئے ہیں کہ کم عمر بچوں کی توجہ کو طویل عرصے تک باؤنڈ رکھتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت اور تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ماہرین اور پالیسی ساز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومتوں اور اداروں کو آگے بڑھ کر ضابطہ کار وضع کرنے چاہئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کی حد یا پابندیوں کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں ہوگا اور بچے کسی نہ کسی طرح ان سے بچنے کے راستے تلاش کر لیں گے، لیکن حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوشش ہی ترک کر دی جائے۔ جس طرح زندگی کے دیگر شعبوں میں نابالغ افراد کے لیے حفاظتی قوانین بنائے جاتے ہیں، اسی طرح ڈیجیٹل دنیا میں بھی حفاظتی حصار قائم کرنے کا آغاز کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ سیسیلیا رابنسن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ابتدائی کوشش کے بعد تجربات کی روشنی میں ان قوانین کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن سمت کا تعین کرنے کے لیے آج ایک سخت فیصلہ لینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔