LIVE
Loading Breaking News...

صدر ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر: گوشت کی پراسیسنگ اور فروخت پر بڑا فیصلہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دو نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے ہیں جن کا مقصد امریکی کسانوں اور فارم مالکان کو بااختیار بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت اب کسان اپنے جانوروں کا گوشت خود پراسیس کرنے اور اسے ریاستوں کی حدود سے باہر فروخت کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز دو اہم ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے ہیں جن کا بنیادی مقصد امریکی کسانوں اور مویشی پال حضرات کو معاشی طور پر مزید بااختیار بنانا ہے۔ اس نئے حکومتی فیصلے کے بعد اب کسانوں اور فارم مالکان کو یہ قانونی اجازت مل گئی ہے کہ وہ اپنے جانوروں کا گوشت خود پراسیس کر سکیں اور اسے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ریاستوں کی جغرافیائی حدود سے باہر بھی صارفین کو براہ راست فروخت کر سکیں۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے زرعی شعبے میں مسابقت بڑھے گی اور چھوٹے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ اب تک کے مروجہ قوانین کے تحت امریکی کسانوں کو اپنے جانوروں کا گوشت فروخت کرنے کے لیے مخصوص اور محدود ضابطوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے انہیں بڑی پراسیسنگ فیکٹریوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے نفاذ سے اس پیچیدہ نظام میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، کیونکہ اب کسان اپنی پیداوار کو بہتر طریقے سے مارکیٹ تک پہنچا سکیں گے۔ اس فیصلے سے گوشت کی سپلائی چین میں بھی بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے اور صارفین کو بھی زیادہ متبادل اور تازہ مصنوعات دستیاب ہوں گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم امریکی زرعی معیشت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جو طویل عرصے سے بڑے کارپوریٹ سلاٹر ہاؤسز کے اثر و رسوخ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ اس پالیسی تبدیلی سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بھی تیز ہوں گی۔ صدر ٹرمپ کی اس انتظامی ترجیح کو کسان برادری کی طرف سے بے حد سراہا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مثبت معاشی اثرات سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔