LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ اور سیاسی کشمکش

News Image
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر ملکی سیاست کے ایوانوں میں گونج اٹھا ہے اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ ناقدین اس عمل کو محض نقشہ سازی قرار دے رہے ہیں جبکہ حامی جماعتیں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر زور دے رہی ہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکز میں آ گیا ہے، اور اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث اور لفظی جنگ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف پلیٹ فارمز پر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حق اور مخالفت میں بیانات سامنے آئے ہیں، جن سے ملکی سیاسی فضا کافی گرما گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انتظامی بہتری کے نام پر صوبوں کی تقسیم کا یہ معاملہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر شدید اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے اس بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے، جس سے سیاسی کشمکش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات پر تمام بڑی جماعتوں کے مابین وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر یہ موضوع محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ بن کر رہ جائے گا۔ کچھ حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ محض نقشے تبدیل کرنے یا نئے صوبے بنانے سے زمینی حقائق اور عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ماہرینِ اقتصادیات اور کالم نگاروں نے اس خیال پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے صرف کاغذی کارروائی یا کیلکولیٹر کا استعمال کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے معاشی استحکام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں اس مطالبے کی نوعیت کیا ہوگی اور آیا اس حوالے سے کوئی ریفرنڈم یا سنجیدہ آئینی اقدامات کیے جائیں گے یا نہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال، نئے صوبوں کے قیام کا یہ مسئلہ سیاسی مباحثوں کیزینت بنا ہوا ہے اور تمام اہم فریقین اس پر اپنے اپنے سیاسی مفادات کے مطابق ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، جس سے یہ بحث مزید طویل ہونے کا امکان ہے۔