LIVE
Loading Breaking News...

مسیحی برادری کا پاکستان کا دفاع، ڈاکٹر جوزف ارشاد کا عزم

News Image
ڈاکٹر جوزف ارشاد نے پاکستان کے دفاع کے لیے مسیحی برادری کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں یومِ دفاع کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
اسلام آباد: پاکستان کی مسیحی برادری نے ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا ایک بار پھر بھرپور اعادہ کیا ہے۔ یہ بات چیئرمین و صدر بشپس کونسل آف پاکستان اور کیتھولک چرچ کے نمائندے ڈاکٹر جوزف ارشاد کی طرف سے کہی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مسیحی برادری اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اقلیتوں نے ہمیشہ ملکی تعمیر و ترقی اور سلامتی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور وہ مادرِ وطن کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ یومِ دفاعِ پاکستان کے سلسلے میں ملک کے طول و عرض میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ ان تقریبات کا بنیادی مقصد شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور پوری قوم بالخصوص مسلح افواج کی دفاعی تیاریوں کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو کسی صورت کمزوری یا غفلت پر محمول نہ کیا جائے، کیونکہ دفاعِ وطن کے لیے پوری قوم متحد اور مستعد ہے۔ آزاد جموں و کشمیر سمیت پنڈو اور دیگر علاقوں میں بھی وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو یاد کیا گیا۔ مقامی عمائدین اور شہریوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی شخصیات نے بھی پاکستان کے عوام کو یومِ دفاع کی مبارکباد دی اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر جوزف ارشاد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر اتحاد اور یگانگت کی اشد ضرورت ہے۔ مسیحی برادری کے قائدین نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔ پاکستان کے دفاع کے لیے تمام طبقات کا یہ پختہ عزم اس بات کا غماز ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے۔ تقریب کے اختتام پر وطن کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔