LIVE
Loading Breaking News...

اگست میں عالمی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، ایف اے او رپورٹ

News Image
اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او کے مطابق اگست میں عالمی خوراک کی قیمتیں 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور جنگی تنازعات نے زرعی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگست کے مہینے میں عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں سال 2022 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں غیر متوقع موسمیاتی تبدیلیاں اور دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص یوکرین میں جاری جنگی تنازعات کو قرار دیا جا رہا ہے، جن کی وجہ سے زرعی اجناس کی برآمدات اور عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خوراک کی رسد میں کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے دنیا بھر کے صارفین کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم اور دیگر بنیادی خوراک کی ترسیل میں تعطل کی وجہ سے آنے والے دنوں میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے، جو بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لیے انتہائی چیلنجنگ ثابت ہوگا۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی نے بحیرہ اسود کے راستے ہونے والی اناج کی برآمدات کو بری طرح متاثر کیا ہے، جو عالمی غذائی تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے کئی حصوں میں خشک سالی اور سیلاب جیسے موسمیاتی عوامل نے فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس سے پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین اور عالمی مالیاتی اداروں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں، ورنہ عالمی سطح پر بھوک اور غربت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔