Health
گلے کی خراش ہینگوور سے سیپس میں تبدیل، حیرت انگیز طبی واقعہ
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایلی بلیک نے گلے کی تکلیف کو شراب کے اثرات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جو بعد میں خطرناک انفیکشن سیپس میں بدل گئی۔ وقت پر ہسپتال پہنچنے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے ان کی جان بچا لی۔
برطانیہ میں پیش آنے والے ایک عجیب اور خطرناک طبی واقعے میں ایک خاتون نے گلے کی معمولی تکلیف کو محض ہینگوور سمجھ کر نظر انداز کر دیا، جو آگے چل کر جان لیوا مرض 'سیپس' میں تبدیل ہو گئی۔ ایلی بلیک نامی خاتون کو جب گلے میں درد محسوس ہوا تو انہوں نے اسے گزشتہ رات کی تھکن یا پارٹی کے اثرات سمجھا اور کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی طبیعت تیزی سے بگڑتی چلی گئی اور جسم میں خطرناک علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔ جب صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو ایلی کے اہلِ خانہ نے انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کے ٹیسٹ کرنے کے بعد انکشاف کیا کہ وہ سیپس نامی خطرناک انفیکشن میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق سیپس ایک ایسی جان لیوا طبی حالت ہے جو انفیکشن کے خلاف جسم کے انتہائی ردعمل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اگر اس کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو یہ چند گھنٹوں میں اعضاء کی ناکامی اور موت کا سبب بن سکتی ہے۔ ایلی کے معاملے میں انفیکشن ان کے خون تک پھیل چکا تھا جس کی وجہ سے ان کی زندگی شدید خطرے میں تھی۔ ہسپتال کے ماہر طبی عملے نے فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ان کا علاج شروع کیا اور مضبوط اینٹی بائیوٹکس اور دیگر ضروری طبی طریقہ کار کے ذریعے ان کی حالت کو قابو میں لایا۔ علاج کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر ایلی کچھ دیر اور ہسپتال آنے میں تاخیر کرتی تو ان کا بچنا انتہائی مشکل ہو جاتا اور نتائج بہت مختلف ہو سکتے تھے۔ اس واقعے کے بعد ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے عوام الناس کے لیے انتباہ جاری کیا ہے کہ جسم میں ظاہر ہونے والی کسی بھی غیر معمولی علامت یا درد کو محض معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً جب وہ وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کر رہی ہوں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گلے کا درد، بخار، اور کمزوری جیسی علامات بظاہر عام لگتی ہیں لیکن بعض اوقات یہ کسی بڑے اور مہلک مرض کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے بروقت طبی معائنہ ہی انسان کو کسی بھی بڑے حادثے یا جان لیوا بیماری سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔