LIVE
Loading Breaking News...

گل پلازہ آتشزدگی: نئی چارج شیٹ میں بلڈنگ انتظامیہ پر ذمہ داری عائد

News Image
کراچی کے گل پلازہ میں جنوری کے مہینے میں لگنے والی ہولناک آگ کے معاملے پر پولیس نے نئی چارج شیٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔ چارج شیٹ میں ریسکیو اداروں کو کلیئر قرار دیتے ہوئے عمارت کی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور ناکافی حفاظتی انتظامات کو حادثے کی اصل وجہ بتایا گیا ہے۔
کراچی کی جنوبی جوڈیشل مجسٹریت کی عدالت میں گل پلازہ آتشزدگی کے دلخراش واقعے سے متعلق پولیس کی جانب سے ایک نئی چارج شیٹ جمع کرا دی گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں کم از کم 73 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 1100 سے زائد دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی تھیں آگ بجھانے کا یہ طویل عمل دو دن تک جاری رہا تھا۔ نبی بخش پولیس کی جانب سے 3 ستمبر کو دائر کی جانے والی اس تازہ چارج شیٹ میں عمارت کی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کو اس بڑے جانی و مالی نقصان کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی میں جمع کرائی جانے والی چارج شیٹ کو عدالت نے مسترد کر دیا تھا کیونکہ تفتیشی افسر کی جانب سے تحقیقات کو ناکافی اور نامکمل قرار دیا گیا تھا۔ نئی چارج شیٹ میں چار ملزمان کے نام شامل کیے گئے ہیں جنہیں ٹرائل کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جن میں دکان کے مالک نعمت اللہ، گل پلازہ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا اور ایسوسی ایشن کے اراکین عمار اسماعیل اور محمد رمضان شامل ہیں۔ تفتیشی رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت عمارت کے ایمرجنسی گیٹس کو تالے لگے ہوئے تھے جس کی وجہ سے لوگ باہر نہیں نکل سکے اور اندھیرے میں پھنس کر رہ گئے۔ چارج شیٹ میں بتایا گیا کہ انتظامیہ نے کے الیکٹرک سے کہہ کر بجلی کی سپلائی تو بند کروا دی لیکن ان کے پاس روشنی کا کوئی متبادل انتظام موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔ دوسری جانب سرکاری اداروں اور ریسکیو سروسز کے حوالے سے چارج شیٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور کے ایم سی نے اپنے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے آگ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کی۔ سندھ حکومت کی انکوائری کمیشن اور جوڈیشل کمیشن کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بھی یہ بات سامنے آئی کہ ریسکیو اداروں کی جانب سے کوئی مجرمانہ غفلت نہیں برتی گئی، البتہ سول ڈیفنس اور فائر ڈپارٹمنٹ کے چند افسران کے خلاف محکمانہ کارروائیاں ضرور عمل میں لائی گئیں۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں اس بات پر شدید روشنی ڈالی گئی تھی کہ یہ حادثہ دراصل صوبائی اور مقامی حکومتوں کے نظامی فیل ہونے کا نتیجہ تھا، جہاں قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر موثر انداز میں عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔ چارج شیٹ کے آخر میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نامزد ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور آئندہ اس قسم کے سانحات سے بچنے کے لیے تعمیراتی و حفاظتی اصولوں کی سختی سے پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔