LIVE
Loading Breaking News...

پاسپورٹ آفس اتوار اور ہفتے کے اوقات کار، ڈی جی آئی پی کا نیا اعلان

News Image
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے اعلان کیا ہے کہ شہریوں کی سہولت کے لیے پاسپورٹ کی ترسیل کے کاؤنٹرز اگلے دو ماہ تک ہر ہفتے کے روز صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک کھلے رہیں گے۔ حکومتی پالیسی کے مطابق چھ ماہ تک غیر معطل رہنے والے پاسپورٹس کو تلف کر دیا جائے گا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس (DGIP) کی جانب سے جاری کردہ ایک عوامی نوٹس کے مطابق، پاسپورٹ کی ترسیل اور وصولی کے کاؤنٹرز کو آئندہ دو ماہ تک ہفتے کے روز بھی کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ خصوصی اقدامات شہریوں کو ان کے پاسپورٹس بروقت فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، تاکہ وہ باقاعدہ دفتری اوقات میں آنے سے قاصر رہنے کی صورت میں بھی ان کاؤنٹرز سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان ترسیلی کاؤنٹرز کا وقت ہفتے کے روز صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔ محکمہ کی آفیشل ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے نوٹس میں تمام شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے پاسپورٹس وصول کر لیں۔ ڈی جی آئی پی نے تنبیہ کی ہے کہ حکومتی پالیسی کے تحت ایسے تمام پاسپورٹس جو چھ ماہ تک غیر کلیم شدہ رہیں گے اور جنہیں کوئی وصول نہیں کرے گا، انہیں ضائع یا تلف کر دیا جائے گا۔ اس لیے تمام متعلقہ شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جولائی کے مہینے میں ڈی جی آئی پی نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ٹی سی ایس کے ساتھ شراکت داری کی تھی، جس کے تحت "پاسپورٹ آپ کی دہلیز پر" کے نام سے گھر بیٹھے پاسپورٹ کی ترسیل کی ہوم ڈیلیوری سروس کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ڈی جی آئی پی کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی رندھاوا کا کہنا تھا کہ یہ اقدام محکمہ کے اس عزم کا عکاس ہے کہ شہریوں کو پاسپورٹ کی سہولیات انتہائی آسان اور مؤثر انداز میں فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ جون کے مہینے میں حکومت نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ روایتی مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس کو آہستہ آہستہ ختم کر کے ان کی جگہ مکمل طور پر ای پاسپورٹس کا اجرا کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق، ای پاسپورٹس کی طرف اس مکمل منتقلی سے پاسپورٹس سے جالی سازی اور فراڈ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ حکومت کی یہ تمام کوششیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور سرکاری امور میں شفافیت لائی جائے۔