Business
امریکہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، ایرانی تنازع کا اثر
امریکہ میں چھ ماہ سے جاری جنگ کے باعث ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور فی گیلن قیمت پانچ ڈالر پچاسی سینٹ تک پہنچ گئی۔ اس بحران سے عالمی سطح پر ایندھن کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے جس کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں۔
امریکہ میں ایندھن کے شعبے میں اس وقت شدید بحران پیدا ہو چکا ہے جہاں جمعہ کے روز ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ بھر میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی بار بڑھ کر پانچ ڈالر پچاسی سینٹ فی گیلن ہو گئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ کسی معمولی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے دنیا کے ایک اہم خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کارفرما ہے۔
ایران کے ساتھ جاری چھ ماہ طویل جنگ نے عالمی منڈی میں تیل اور ایندھن کی فراہمی کے روایتی راستوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خلیجی خطے سے ہونے والی سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے ریفائنریوں اور تیل ذخیرہ کرنے والے اداروں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈیزل نہ صرف گاڑیوں بلکہ ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور زرعی مشینری کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر اشیائے خوردونوس اور عام استعمال کی چیزوں پر پڑ رہا ہے۔
کاروباری حلقوں اور ٹرانسپورٹ یونینز نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جلد کنٹرول میں نہ لائی گئی تو سپلائی چین مزید متاثر ہوگی اور ملک بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ایندھن کے متبادل ذرائع تلاش کرنے اور قیمتوں کو اعتدال پر لانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو اس بحران کے منفی اثرات سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی معیشت کو سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ توانائی کے ماہرین کا خیال ہے کہ تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ تاریخی اضافہ آنے والے ہفتوں میں دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا سبب بنے گا، جس سے صارفین کا بجٹ بری طرح متاثر ہوگا۔