LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں کہنیوں کی گٹھلیوں کی وجہ لکڑی گلانے والی فنگس قرار

News Image
امریکہ میں صحت مند مدافعتی نظام رکھنے والے دو افراد کی کہنیوں کے نیچے عجیب گٹھلیاں نمودار ہوئیں جن کی تشخیص ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے لکڑی گلانے والی فنگس کے طور پر ہوئی۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک غیر معمولی طبی واقعہ ہے کیونکہ یہ فنگس عام طور پر صحت مند انسانوں کو متاثر نہیں کرتی۔
امریکہ میں پیش آنے والے ایک انوکھے طبی واقعے میں دو ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام بالکل درست طریقے سے کام کر رہا تھا، کی کہنیوں کے نیچے شدید اور ضدی گٹھلیاں بن گئیں۔ طبی ماہرین اس وقت حیرت میں مبتلا ہو گئے جب طویل تحقیقات اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ان گٹھلیوں کی بنیادی وجہ ایک ایسی فنگس ہے جو عام طور پر پودوں اور گلتی سڑتی لکڑی پر پائی جاتی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اس قسم کی فنگس عام حالات میں صحت مند انسانوں کو بیمار نہیں کرتی اور انفیکشن کا سبب بننا انتہائی نایاب ہے۔ متاثرہ افراد کو کئی مہینوں تک اس بیماری کی درست تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی طور پر ان گٹھلیوں کو عام سوجن یا عام رسولی سمجھا جا رہا تھا، تاہم جب علامات میں بہتری نہ آئی تو ماہرین نے مزید گہرائی سے جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا۔ ڈی این اے ٹیسٹنگ کے جدید طریقوں کی مدد سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ فنگس کے جراثیم ہیں جو جلد کے اندرونی حصوں میں جڑ پکڑ چکے تھے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ کیس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ماحول میں موجود عام فنگس بھی بعض اوقات غیر معمولی حالات میں انسانی جسم پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ خوش قسمتی سے درست تشخیص ہو جانے کے بعد دونوں مریضوں کا علاج شروع کر دیا گیا ہے اور طبی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ انفیکشن ماحولیاتی آلودگی یا کسی مخصوص حادثاتی رابطے کی وجہ سے پھیلا تھا۔ اس نوعیت کے کیسز میڈیکل ریسرچ میں نئی راہیں کھول رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے غیر معمولی فنگل انفیکشنز سے بروقت نمٹا جا سکے۔