LIVE
Loading Breaking News...

این ایف آر اے کی آڈٹ معیار اور ٹیکنالوجی پر نئی کمیٹی

News Image
نیشنل فنانشل رپورٹنگ اتھارٹی نے آڈٹ کے معیار، یقین دہانی اور ٹیکنالوجی کے امور پر غور کے لیے ایک اہم نو رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں مالیاتی اور ریگولیٹری شعبے کے نامور ماہرین کو شامل کیا گیا ہے جو آڈٹ کے نظام کو مزید شفاف بنائیں گے۔
نیشنل فنانشل رپورٹنگ اتھارٹی (این ایف آر اے) نے کارپوریٹ سیکٹر اور مالیاتی اداروں میں آڈٹ کے معیار، یقین دہانی اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کو بہتر بنانے کی غرض سے ایک نو رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ قدم مالیاتی رپورٹنگ کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے اور اس میں مزید شفافیت لانے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور مضبوط رکھا جا سکے۔ اس نو رکنی اہم کمیٹی میں مالیاتی اور ریگولیٹری شعبے کی جانی مانی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا (آربی آئی) کی سابق ڈپٹی گورنر شیاملا گوپی ناتھ اور سیکییورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے سابق ہول ٹائم ممبران کو اس کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے جو اپنی گراں قدر مہارت اور تجربے کی روشنی میں آڈٹ کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تجاویز پیش کریں گے۔ کمیٹی کا بنیادی مقصد آڈٹ فرموں کی کارکردگی کا جائزہ لینا، آڈٹ کے دوران درپیش تکنیکی چیلنجز سے نمٹنا اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ این ایف آر اے کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے معاشی حالات میں روایتی آڈٹ کے طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مالیاتی بے ضابطگیوں کو بروقت روکا جا سکے۔ متوقع طور پر یہ کمیٹی اپنی سفارشات جلد ہی اتھارٹی کو پیش کرے گی جن کی روشنی میں نئے ضوابط اور پالیسیاں مرتب کی جائیں گی۔ مالیاتی تجزیہ کاروں نے این ایف آر اے کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں کارپوریٹ گورننس کے نظام میں بہتری آئے گی اور مجموعی معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔