Technology
گلابی زیبرا کائی نیچرل ہسٹری میوزیم کا حصہ، سائنسدان کا خواب پورا
چار دہائی قبل دریافت ہونے والی نایاب قدیم کائی (ایلجی) کو بالآخر لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی باقاعدہ کلیکشن میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کی دریافت کے پیچھے ایک سائنسدان کی طویل جدوجہد اور جنون شامل ہے جو اس پراسرار سمندری پودے کے راز جاننے کے لیے کوشاں تھے۔
لندن کے معروف نیچرل ہسٹری میوزیم نے ایک نہایت نایاب اور قدیم سمندری کائی کو اپنی سائنسی کلیکشن کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے جسے دنیا بھر میں 'گلابی زیبرا' سمندری گھاس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس پودے کو پہلی بار آج سے چار دہائی قبل سمندری تہوں میں دیکھا گیا تھا، اور تب سے لے کر اب تک یہ سائنسدانوں کے لیے ایک پُراسرار معمہ بنی ہوئی تھی۔ ایک برطانوی سائنسدان نے اپنی زندگی کے کئی سال اس پراسرار کائی کے مطالعہ اور اس کے وجود کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے وقف کر دیے تھے۔ یہ پیش رفت سمندری حیات کے مطالعے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس منفرد سمندری پودے کی خصوصیات نے طویل عرصے سے محققین کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا تھا کیونکہ اس کے نمونے انتہائی محدود اور نایاب مقامات سے ہی حاصل ہو پائے تھے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ کائی لاکھوں سال پرانے سمندری ارتقائی عمل کی بقا کی علامت ہے اور اس کا مطالعہ ہمیں زمین کے ماحولیاتی تغیرات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ نیچرل ہسٹری میوزیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوادرات کو محفوظ بنانا نہ صرف سائنسی برداری کے لیے ایک تحفہ ہے بلکہ یہ عام لوگوں کے لیے بھی سمندری حیات کے تنوع کو جاننے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے سائنسدان کا کہنا ہے کہ زندگی بھر کی محنت اور تپش کے بعد اس پودے کو ایک مستند سائنسی ادارے کی چھت کے نیچے دیکھنا ان کا خواب پورا ہونے جیسا ہے۔ میوزیم کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ان نادر نمونوں کو محققین کے لیے جلد ہی خصوصی لیبارٹریز میں دستیاب کرایا جائے گا تاکہ ان پر مزید جدید جینیاتی اور بائیولوجیکل تحقیق کی جا سکے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس تحقیق کے ذریعے اس قدیم کائی کی جینیاتی ساخت اور اس کی بقا کے راز بھی کھلیں گے۔