Politics
سندھ میں پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، پیپلز پارٹی کو چیلنج
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سندھ میں پارٹی کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے جو کہ پیپلز پارٹی کی روایتی اجارہ داری کو سخت چیلنج فراہم کر رہی ہے۔ اس دوران پارٹی کے طویل مارچ اور آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کے پیش نظر پولیس نے متعدد کارکنان کو گرفتار بھی کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سندھ کے اندر پارٹی کو عوام کی طرف سے جو زبردست تعاون اور حمایت مل رہی ہے، وہ صوبے میں پیپلز پارٹی کے روایتی سیاسی غلبے اور اثر و رسوخ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ میرپورخاص پہنچنے کے دوران اپنے ایک بیان میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کا کارواں سندھ کے کونے کونے میں عوامی شعور بیدار کر رہا ہے اور عوام اب تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری جانب، آنے والے سیاسی دنگل اور 27 ستمبر کے طویل مارچ کے تناظر میں سیاسی گہमागहमी عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کا رضاکار یونٹ اس مارچ کے دوران سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، اس احتجاجی حکمت عملی اور ریلیوں کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں کچھ ابہام اور الجھن بھی پائی جا رہی ہے جس سے نمٹنے کے لیے پارٹی قیادت متحرک ہے۔
رپورٹس کے مطابق، آئندہ کے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے پیشِ نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت کے تقریباً 120 کارکنوں کو مختلف علاقوں سے گرفتار کر لیا ہے۔ ان گرفتاریوں کے باوجود پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومتی ہتھکنڈے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور طویل مارچ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا، جس سے صوبے کا سیاسی منظرنامہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔