World
امریکی انٹیلی جنس: جنگ نے تہران کو مزید پراعتماد کر دیا
امریکی انٹیلی جنس اداروں کے حالیہ جائزوں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کی وجہ سے تہران کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ تہران خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے اور طویل المدتی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور جنگی صورتحال نے تہران کو دفاعی پوزیشن کے بجائے مزید پراعتماد بنا دیا ہے۔ مختلف امریکی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے سامنے آنے والی ان اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ایرانی قیادت موجودہ کشیدگی کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے خطے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کر رہی ہے۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ تہران مستقبل میں سائبر حملوں اور عسکری محاذ پر مزید جارحانہ اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ایران طویل مدتی حکمت عملی کے تحت اس کشیدگی کو طول دینے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر اپنے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اس صورتحال نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کی پیشانی پر شکنیں ڈال دی ہیں، کیونکہ وہ خطے میں کسی بھی بڑی ناگہانی عسکری یا سفارتی پیش رفت سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی اور سکیورٹی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ تہران کا یہ بڑھتا ہوا اعتماد نہ صرف عسکری میدان تک محدود ہے بلکہ سفارتی اور علاقائی سطح پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کا ر رخ موڑ سکتے ہیں۔