LIVE
Loading Breaking News...

سুপার ایل نینو اور خوراک کا بحران: کروڑوں افراد بھوک کا شکار

News Image
سুপার ایل نینو کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں مزید افراد کے شدید بھوک کا شکار ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی امداد میں کٹوتیوں نے اس عالمی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
عالمی موسمیاتی اداروں اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق سپر ایل نینو کے اثرات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں خوراک کا بحران سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قدرتی مظہر کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں انتہائی درجہ حرارت اور موسمیاتی شدت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو زرعی پیداوار کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں تقریباً 49 ملین مزید افراد شدید بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر انسانی امداد کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز اور گرانٹس میں کٹوتیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ایل نینو کی وجہ سے کروڑوں انسانوں کو ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی ضرورت ہے، فنڈز کی کمی امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک اور عالمی اداروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ انسانی المیے سے بچا جا سکے۔ متعلقہ ممالک میں حکومتوں اور وزارتوں نے شہریوں کو خبردار کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ممکنہ موسمیاتی شدت اور خوراک کی سپلائی میں خلل کے پیش نظر ضروری اشیاء بالخصوص خوراک کا ذخیرہ کریں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم ڈبلیو ایم او کے مطابق یہ سپر ایل نینو ماضی کے ریکارڈ توڑ سکتا ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔ حکومتیں اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔