World
یمن میں حوثی جھڑپیں: تعز میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک
یمن کے شہر تعز میں سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سویلین سمیت ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فریقین کے درمیان اقتدار اور علاقوں پر قبضے کی کشمکش کے باعث انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
یمن کے شورش زدہ شہر تعز میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے مابین مسلح جھڑپوں میں انتہائی شدت آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق ساٹھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں نہ صرف مسلح جنگجو بلکہ بڑی تعداد میں معصوم سویلین شہری بھی شامل ہیں جو اس طویل اور تباہ کن تنازعات کی براہ راست زد میں آئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ تازہ جھڑپیں ایک اہم اور اسٹریٹجک ضلع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہیں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کے لیے پوری طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔
اس خونی محاذ آرائی نے مقامی آبادی کے لیے زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے، اور فائرنگ کے تبادلے و گولہ باری کی وجہ سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث طبی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فورا جنگ بندی نہ کی گئی تو انسانی المیہ مزید سنگین ہو جائے گا اور خوراک و ادویات کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری اور علاقائی طاقتیں یمن میں بڑھتی ہوئی اس نئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ تعز کا یہ اسٹریٹجک علاقہ جنگ کے مجموعی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ فریقین کسی بھی قسم کی پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے مبصرین نے تمام فریقوں سے فوری طور پر تشدد کا راستہ چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔