World
بھارتی احتجاج میں پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق، ماہرین کی رپورٹ
بالسٹک ماہرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے جسموں پر موجود چھوٹے چھوٹے سوراخ پیلٹ گن کے استعمال کی واضح نشانیاں ہیں۔ ان زخموں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ احتجاج کو دبانے کے لیے پرتشدد طریقوں کا استعمال کیا گیا۔
بھارت میں حالیہ دنوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران حکام کی جانب سے طاقت کے استعمال پر ایک بار پھر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ذرائع اور ماہرین کے مطابق، 'کاک روچ' کے نام سے ہونے والے ان مظاہروں میں شرکت کرنے والے متعدد افراد کے جسموں پر ایسے زخم پائے گئے ہیں جو پیلٹ گن کے فائر سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور طبی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ بالسٹک اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے جسموں پر موجود درجنوں چھوٹے گول سوراخ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ان پر چھرے والی بندوقوں یعنی پیلٹ گن سے حملے کیے گئے۔ یہ زخمی افراد اس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ پرامن احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی طرف سے ان پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں شدید جسمانی چوٹیں آئیں۔ ماہرین نے ان زخموں کی نوعیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور اسے تشویشناک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، اس معاملے پر مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ابھی تک کوئی جامع بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف اس قسم کے ہتھیاروں کا استعمال عوامی آزادیوں اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کے طریقہ کار پر بحث شروع ہو گئی ہے اور متاثرہ افراد کو انصاف دلانے کے لیے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔