World
جنوبی افریقا میں کروم کی غیر قانونی کان کنی اور مزدوروں کے مسائل
جنوبی افریقا میں کروم کی دولت کے پیچھے ایک تاریک معیشت پروان چڑھ رہی ہے جہاں تارکین وطن اور بے روزگار مزدوروں کو انتہائی خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس غیر قانونی سرگرمی کی وجہ سے غریب کارکنان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
جنوبی افریقا دنیا بھر میں معدنی وسائل کے حوالے سے ایک انتہائی مالدار خطہ مانا جاتا ہے، جہاں کروم کی دولت وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ تاہم، اس چمکتی ہوئی دولت کے پس منظر میں ایک تاریک اور خطرناک معیشت جنم لے چکی ہے، جسے عام طور پر غیر قانونی کان کنی اور شیڈو اکانومی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس خفیہ معاشی نظام کے تحت کام کرنے والے افراد کو انتہائی کٹھن اور جان لیوا حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس نے انسانی حقوق کے اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس خطرناک زیر زمین معیشت میں زیادہ تر وہ تارکین وطن اور بے روزگار مقامی ورکرز شامل ہیں جو شدید غربت اور روزگار کے فقدان کی وجہ سے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔ باضابطہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث یہ افراد غیر قانونی طور پر کانوں میں اترتے ہیں جہاں حفاظتی انتظامات کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ ان سرنگوں میں گرنے والے حادثات، زہریلی گیسوں کا اخراج اور زمینی تودے گرنے کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں آئے روز قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
حکومتی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس غیر قانونی نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً کارروائیاں کی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ اندھیری معیشت بدستور پھیل رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بدعنوانی، معاشی مجبوری اور عالمی مارکیٹ میں کروم کی بلند قیمتیں ہیں جو مافیا کو اس غیر قانونی دھندے کو جاری رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ جب تک اس خطے میں بے روزگاری کا خاتمہ اور روزگار کے قانونی ذرائع فراہم نہیں کیے جاتے، غریب مزدوروں کا یہ استحصال اور جان لیوا حالات کا سلسلہ یونہی جاری رہنے کا خدشہ ہے۔