LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی انتخابات 2026: سیکسنی انہالٹ میں انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی کی کامیابی کا امکان

News Image
جرمنی کے صوبہ سیکسنی انہالٹ میں اہم ریاستی انتخابات کے لیے ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے کہ کوئی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کسی صوبے میں اقتدار سنبھالے۔
جرمنی کے صوبے سیکسنی انہالٹ میں ریاستی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا عمل جاری ہے، جہاں ووٹرز بڑی تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان انتخابات کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس بار سیاسی میدان میں ایک بڑا تلاطم متوقع ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'اے ایف ڈی' اس انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے صوبائی سطح پر اقتدار میں آ سکتی ہے، جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہو گا۔دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور نازی دور کے زوال کے بعد سے جرمنی کے کسی بھی صوبے میں کسی انتہائی دائیں بازو یا قوم پرست جماعت نے سرکاری سطح پر کبھی اقتدار حاصل نہیں کیا۔ اگر اے ایف ڈی اس بار اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے یا مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتی ہے، تو یہ ملک کی مجموعی سیاسی بساط کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ اس ممکنہ پیش رفت نے روایتی سیاسی جماعتوں اور وفاقی قیادت کی نیندیں حرام کر دی ہیں، جن کی طرف سے اے ایف ڈی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف مسلسل بیانات دیے جا رہے ہیں۔انتخابات کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سیاسی حلقوں میں شدید رسہ کشی دیکھی جا رہی ہے۔ اے ایف ڈی کی جانب سے مہنگائی، امیگریشن اور روایتی حکمران جماعتوں کی پالیسیوں کو ہدف بنایا گیا ہے، جسے عوام کی ایک بڑی تعداد بالخصوص نوجوان طبقے اور دیہی علاقوں میں پذیرائی مل رہی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ انتخابی نتائج جرمنی کے مستقبل کی سیاست اور تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، جبکہ وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ ایک کڑا امتحان ہوگا۔