World
انڈونیشیا آتش فشاں پھٹنے کی وجہ سے ائیرپورٹ پر پروازیں معطل
انڈونیشیا کے مشہور آتش فشاں انوک کراکاتوا کے پھٹنے سے فضا میں خطرناک راکھ پھیل گئی ہے۔ جکارتا کے قریب واقع سوکارنو ہتا انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر احتیاطی تدابیر کے طور پر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
انڈونیشیا میں آتش فشاں انوک کراکاتوا کے ایک بار پھر فعال ہونے اور اس کے پھٹنے کے بعد فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔ آتش فشاں سے اٹھنے والی خطرناک راکھ اور دھوئیں کے بادل فضا میں دور دور تک پھیل گئے ہیں، جس کے باعث حکام نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے دارالحکومت جکارتا کے قریب واقع ملک کے مرکزی سوکارنو ہتا انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ مسافروں اور طیاروں کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے کیونکہ آتش فشاں کی راکھ جیٹ انجنوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ محکمہ ہوا پیمائی اور ائیرپورٹ حکام کے مطابق، آتش فشاں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور صورتحال بہتر ہوتے ہی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ ایوی ایشن حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ائیرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئر لائنز سے پروازوں کی تازہ ترین صورتحال معلوم کر لیں۔ اس اچانک تعطل کی وجہ سے متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور ائیرپورٹ پر مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈونیشیا دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں، کیونکہ یہ ملک 'رنگ آف فائر' کے نام سے معروف فعال زلزلاتی پٹی پر واقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ناگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور متاثرہ علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ مقامی آبادی کو بھی آتش فشاں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔