Pakistan
یوم دفاع و شہداء 2024: وزیراعظم اور صدر کا اہم پیغام
ملک بھر میں 61 واں یومِ دفاع و شہداء روایتی جوش و جذبے اور شایان شان طریقے سے منایا گیا۔ وزیراعظم اور صدر مملکت نے پاک فوج کے جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور خطے میں امن کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسلام آباد: ملک بھر میں 61 واں یومِ دفاع و شہداء پورے قومی وقار اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس بابکت دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ اس موقع پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب بھی منعقد کی گئی۔ یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو 1965 کی جنگ کے شہداء کی یاد میں منایا جاتا ہے جب دشمن نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کیا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس موقع پر اپنے خصوصیغ سغیغغ پیغامات میں مسلح افواج کے افسران، جوانوں اور شہداء کے ورثاء کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور قومی سلامتی کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک شاندار باب ہے جو ہماری مسلح افواج اور پوری قوم کے بے مثال عزم، اتحاد اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ دشمن کی عددی برتری اور اچانک جارحیت کے باوجود ہماری مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی تیاریوں سے اسے ہر محاذ پر شکست فاش دی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج ہمیں غربت، جہالت اور پسماندگی کے خاتمے کے لیے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے وژن کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا اصل استحکام ایک مضبوط معیشت اور متحد قوم میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے اور دنیا بھر میں امن و امان کے فروغ کے لیے ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ اس تاریخی دن پر پوری قوم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وطن عزیز کے دفاع، سلامتی اور ترقی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور اندرونی و بیرونی تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔