LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب میں سزائے موت کے منتظر ایتھوپیا کے قیدیوں کی بی بی سی سے گفتگو

News Image
سعودی عرب میں سزائے موت کے انتظار میں موجود ایتھوپیا کے درجنوں قیدیوں نے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے بی بی سی سے رابطہ کیا ہے۔ ان قیدیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی کسمپرسی اور خوف کے عالم میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے ہیں۔
سعودی عرب کی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر ایتھوپیا کے درجنوں قیدیوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے بین الاقوامی میڈیا بالخصوص برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے رابطہ کیا ہے۔ ان قیدیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی خوف اور مایوسی کے عالم میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے ہیں اور انہیں فوری طور پر عالمی مداخلت کی ضرورت ہے۔ قیدیوں نے فون کے ذریعے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ ان کے مقدمات میں قانونی شفافیت کا فقدان تھا اور انہیں اپنے دفاع کا پورا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ سعودی عرب میں قید ان افراد کا تعلق ایتھوپیا کے مختلف علاقوں سے ہے جو روزگار کی تلاش میں اس خلیجی ملک آئے تھے لیکن بعد ازاں مختلف جرائم میں پھنس گئے جن میں سنگین نوعیت کے الزامات بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں پہلے بھی سعودی عرب میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے نفاذ اور غیر ملکی قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ قیدیوں کی جانب سے بی بی سی کو کی جانے والی ان کالز کے بعد ایک بار پھر اس معاملے پر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ ایتھوپیا کے یہ قیدی اب عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپنے ملک کی حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سفارتی سطح پر مداخلت کریں تاکہ ان کی سزاؤں پر عمل درآمد کو روکا جا سکے یا کم از کم انہیں سزائے موت سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب، سعودی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ ان کا عدالتی نظام مکمل طور پر شفاف ہے اور ملزمان کو قانون کے مطابق تمام بنیادی حقوق اور اپیل کا حق فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم، ان قیدیوں کی آواز اٹھنے کے بعد انسانی حقوق کے اداروں نے سعودی حکومت سے رحم کی اپیل کرنے اور مقدمات کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی بھی انسانی جان کے ضیاع کو روکا جا سکے۔