LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 20 سے زائد دہشت گرد ہلاک

News Image
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا میں مختلف جھڑپوں اور کارروائیوں کے دوران 20 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ یہ دہشت گرد کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل تھی۔
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 3 سے 5 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں اور جھڑپوں میں 20 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں ریاست 'فتنہ الخوارج' کہتی ہے اور انہیں بھارت کی طرف سے مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ یہ کارروائیاں ملک دشمن عناصر کے خاتمے کے لیے جاری عزم استحکام کے وژن کے تحت کی جا رہی ہیں۔ بیان کے مطابق، شمالی وزیرستان میں 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب افغان سرحد کے ذریعے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے ابتدائی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ بعد میں علاقے میں چھپے ہوئے مزید 10 دہشت گردوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا گیا، جس سے اس مخصوص واقعے میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی کل تعداد 25 تک پہنچ گئی۔ ایک اور الگ انکاؤنٹر میں بھی شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلا، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے مزید سات خوارج کو ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران چار مزید دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر پیش آنے والے یہ بار بار کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کرنے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ افغان رجیم مؤثر بارڈر مینجمنٹ اور اپنے بین انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان ادارے نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک کی سرحدوں کا دفاع کرنے اور قوم کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز پرعزم اور غیر متزلزل ہیں۔ علاقے میں کسی بھی باقی ماندہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز تاحال جاری ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عزمِ استحکام کے وژن کے تحت ملک سے دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ جنگ پوری رفتار سے جاری رہے گی۔