LIVE
Loading Breaking News...

گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے سے سیلاب، شاہراہ قراقرم اور اہم راستے بند

News Image
گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بادل پھٹنے اور شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے گھروں، فصلوں اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق شاہراہ قراقرم کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ سیاحت سے وابستہ افراد کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
گلگت بلتستان کے اضلاع غذر اور ہنزہ میں بادل پھٹنے اور موسلا دھار بارشوں کے باعث آنے والے اچانک سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے جس سے نظام زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔ ہفتے کے روز غذر اور اس کے گردونواح میں آنے والے سیلاب نے مکانات، زرعی اراضی، باغات اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ نوربہار کے علاقے میں سیلابی ریلے نے کئی گھروں کو نقصان پہنچایا اور وہاں موجود ایک جماعت خانہ بھی اس کی زد میں آ گیا، جبکہ امّت سے برجنگل جانے والا راستہ اور بجلی کی ترسیلی لائنیں بھی تباہ ہو گئیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مقامی آبادی کا رابطہ دیگر علاقوں سے کٹ گیا ہے اور متاثرہین نے انتظامیہ سے فوری امداد اور سڑکوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب پولیس ترجمان کے مطابق شاہراہ قراقرم کو سوست سے خنجراب ٹاپ تک لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ ہنزہ کے علاقے مرتضیٰ آباد اور حسن آباد کے درمیان بند ہونے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے سیاحت کی غرض سے آنے والے افراد کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ گلگت بلتستان کے مختلف حصوں میں یکم اگست سے جاری وقفے وقفے کی بارش اور گرج چمک کے طوفان نے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی شدید بارشیں اور طوفان نہیں دیکھے۔ دریں اثنا، مسلسل بارشوں کے باعث خطے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور دیامر انتظامیہ کے مطابق بابسر ٹاپ پر موسم کی پہلی برفباری بھی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم وہاں ٹریفک کی روانی تاحال بحال ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق رواں برس جون سے اگست کے دوران خطے میں بادل پھٹنے اور گلیشیر پگھلنے کے نتیجے میں 120 سے زائد سیلابی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کا نازک ایکولوجیکل نظام شدید خطرات کی زد میں ہے اور خطے کے آٹھ ہزار سے زائد گلیشیرز اور تین سو سے زائد گلیشیر جھیلوں کے قریب رہنے والی آبادی کو روز افزوں شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی باشندوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ روایتی موسمیاتی روایات بدل چکی ہیں اور اب گرمیوں کے موسم میں بھی اس قسم کے شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔