LIVE
Loading Breaking News...

مریم نواز کا بیان: پنجاب کو صوبائی سرحدوں سے سیکیورٹی خطرات لاحق

News Image
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے جرائم میں ستر فیصد کمی آئی ہے لیکن زیادہ خطرات صوبائی سرحدوں سے آتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد نے ان کے اس بیان کو خطرناک اور تقسیم پیدا کرنے والا قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے تاہم پنجاب کو اس کی اندرونی صوبائی سرحدوں اور ٹرائِی بارڈر ایریا سے بڑے سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقے ایک وقت میں دہشت گردی اور جرائم کا گڑھ بن چکے تھے لیکن اب وہاں ریاست کی رٹ مکمل طور پر قائم کر دی گئی ہے اور مجموعی طور پر جرائم کی شرح میں ستر فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کو بیرونی ممالک سے زیادہ اپنے ہمسایہ صوبوں کی جانب سے سیکیورٹی کے حوالے سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے چند ماہ کے اندر صوبے کے سیکیورٹی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) کو شامل کر دیا گیا ہے جس سے ضلعی کمیٹیوں کو ڈیجیٹل الرٹس ملیں گے اور امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ مریم نواز کے اس بیان پر اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ، خطرناک اور صوبوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ٹی ٹی اے پی کے ترجمان اور دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے دہائیوں تک دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے اور اس طرح کے بیانات سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے ریمارکس واپس لیں اور اس بیان پر عوام سے معافی مانگیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی اس بیان کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے تمام اکائیوں کو باہمی تعاون کی ضرورت ہے نہ کہ الزام تراشی کی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی کے حساس معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور تمام صوبوں کو مل کر اس ناسور کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔