LIVE
Loading Breaking News...

سندھ میں بی وائی ڈی الیکٹرک وہیکل پلانٹ کے اجرا میں مزید تاخیر

News Image
سندھ کے علاقے گھارو میں بی وائی ڈی کا مجوزہ کار ساز اسمبلی پلانٹ جو مالی سال چھبیس کی پہلی ششماہی میں شروع ہونا تھا، اب تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ حب پاور کمپنی کے مطابق یہ پلانٹ اب سال دو ہزار چھبیس کی دوسری ششماہی میں فعال ہوگا۔
کراچی کے قریب سندھ کے علاقے گھارو میں چین کی معروف الیکٹرک وہیکل ساز کمپنی بی وائی ڈی کا مجوزہ اسمبلی پلانٹ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلانٹ جو کہ مالی سال دو ہزار چھبیس کی پہلی ششماہی میں فعال ہونا تھا، اب طے شدہ وقت پر شروع نہیں ہو سکا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی ایک رپورٹ کے مطابق حب پاور کمپنی لمیٹڈ یعنی حبکو نے تجزیہ کاروں کو بتایا ہے کہ وہ بی وائی ڈی کے اس اسمبلی پلانٹ کو اب دو ہزار چھبیس کی دوسری ششماہی میں آن لائن کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت سالانہ پچیس ہزار گاڑیوں کی پیداواری صلاحیت رکھی گئی ہے جسے مستقبل میں بڑھا کر پچاس ہزار یونٹس تک لے جایا جا سکتا ہے۔ فروری دو ہزار پچیس میں حبکو نے مطلع کیا تھا کہ میگا موٹر کمپنی سندھ میں ایک آٹو اسمبلی پلانٹ قائم کر رہی ہے جو پاکستان کے تین بڑے شہروں میں ڈیلرشپ کے ساتھ کام شروع کرے گا۔ اس منصوبے میں حبکو پچاس فیصد حصص کی حامل ہے اور یہ چین کی کار ساز کمپنی اور حبکو کی ذیلی کمپنی کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ میگا موٹر کمپنی نے مقامی سطح پر گاڑیوں کی اسمبلی میں تاخیر کی وجوہات، پلانٹ کی موجودہ حیثیت اور مقامی بنانے کے منصوبے سے متعلق میڈیا کے سوالات پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم بروکریج ہاؤس کے مطابق حبکو انتظامیہ نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کل منصوبے کی مجموعی لاگت ڈیڑھ سو ملین ڈالر ہے جس میں سے نوے ملین ڈالر پروجیکٹ فنانسنگ پر مشتمل ہیں۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ وہ دو ہزار تیس تک الیکٹرک اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کے سیکشن میں تیس فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرے۔ دوسری جانب حبکو حبکو گرین کے تحت اپنی الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کو بھی وسعت دے رہی ہے۔ اس وقت کراچی پشاور موٹر وے نیٹ ورک پر چوبیس ڈی سی فاسٹ چارجنگ سائٹس فعال ہیں اور کمپنی کا ارادہ ہے کہ چارجرز کے درمیان فاصلے کو مزید کم کیا جائے۔ ادھر ایک اور پیش رفت میں شیری ماسٹر پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان آٹو شو میں اپنی الیکٹرک گاڑی شیری متعارف کرائیں گے۔ ملک میں نئی توانائی کی حامل گاڑیوں کے سیکشن میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور کمپنیاں پاکستان کی بڑھتی ہوئی روپ ٹاپ سولر مارکیٹ سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق گھریلو سطح پر سولر پاور کا استعمال الیکٹرک گاڑیوں کے چلانے کے اخراجات کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جو کہ روایتی پیٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں صارفین کے لیے انتہائی کفایت شعار ثابت ہوگا۔