Politics
جماعت اسلامی اور حکومت میں مذاکرات، ملک گیر ہڑتال کی دھمکی
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کل شروع ہوں گے جبکہ جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات میں تاخیر پر ملک گیر پہیا جام ہڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوامی دباؤ کے باعث بجلی اور فیول کی قیمتوں میں کمی ممکن ہوئی ہے۔
اسلام آباد: حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان تمام تساہل اور تناؤ کے بعد بالآخر باضابطہ مذاکرات کا آغاز کل (پیر کے روز) ہوگا۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی دارالحکومت میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا باضابطہ اعلان کیا کہ مذاکرات کے باوجود ملک بھر میں جاری دھرنے اور احتجاجی تحریک بلاتعطل جاری رہے گی۔ انہوں نے سخت الفاظ میں حکومت کو خبردار کیا کہ اگر عوامی مطالبات کی منظوری میں مزید تاخیر کی گئی یا حیل و حوالہ سے کام لیا گیا تو جماعت اسلامی ملک بھر میں پہیا جام ہڑتال کرنے پر مجبور ہوگی جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے موجودہ حکمران ڈھانچے اور بیوروکریسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور موجودہ سیٹ اپ کو تنقید کا ہدف بناتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر آئینی اور مسلط کردہ نظام ہے جو اپنی نااہلی اور شاہانہ اخراجات کا تمام تر بوجھ بھاری ٹیکسوں کی صورت میں غریب عوام پر ڈال رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے اکیس روزہ پرامن دھرنوں اور ملک گیر احتجاجی مہم کے باعث ہی حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں دس سے بارہ روپے فی یونٹ کمی کرنا پڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عوامی دباؤ کی بدولت آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے ساتھ مذاکرات میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکا گیا ہے۔
ملکی معیشت کی ابتر صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر نے بتایا کہ پاکستان کا کل قرضہ ایک لاکھ دس ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر صرف سود کی ادائیگی آٹھ ہزار ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر مرکزی بینک کی شرح سود میں تین فیصد تک کمی کر دی جائے تو پیٹرولیم لیوی کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے ایف بی آر کی نااہلی کی وجہ سے سالانہ تیرہ سو ارب روپے کے نقصان کا ذکر کیا اور گیس کی عدم فراہمی کے باوجود آر ایل این جی پلانٹس کو ادائیگیاں جاری رکھنے کے عمل کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے تعلیمی شعبے اور صوبہ سندھ کے سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام کے اصل مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی پچاس لاکھ شہریوں کے دستخط حاصل کرنے کی ایک بڑی مہم شروع کرے گی جس کا مقصد عوام کو ساختیاتی ریلیف دلانا، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا اور روٹی کی قیمت دس روپے تک مقرر کرانا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے پرامن جمہوری احتجاج کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک عوام کو حقیقی معاشی ریلیف نہیں مل جاتا، جماعت اسلامی سڑکوں پر موجود رہے گی اور حکمرانوں کو عوام کا استحصال نہیں کرنے دے گی۔