LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کرکٹ بورڈ میں بحران، انگلینڈ سیریز شکست پر سخت فیصلے

News Image
انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مسلسل شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کی برطرفی سمیت بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں کو تبدیل کیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس غیر معمولی ردعمل نے شائقین اور میڈیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں پی سی بی کی گورننس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو ہیڈنگلے اور لارڈز کے مقام پر لگاتار شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو ماہرین ایک غیر معمولی اور ہنگامی ردعمل قرار دے رہے ہیں۔ سیریز کے پہلے دو میچ ہارنے کے بعد پی سی بی نے فوری طور پر ہیڈ کوچ اور فاسٹ بولنگ کوچ کو عہدوں سے ہٹا دیا، اسکواڈ کے سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیٹنے کا حکم دیا گیا اور ان کی جگہ پانچ نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اوپننگ بیٹر پر مبینہ طور پر انجری کا ناٹک کرنے پر انکوائری کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ انتظامی سطح پر اٹھائے جانے والے یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بورڈ کے اندر شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ پاکستان کرکٹ کے اندر اس قسم کے بحران اور فیصلوں کا اچانک سامنے آنا کوئی نئی بات نہیں۔ پی سی بی کے چیئرمین کا منصب ہمیشہ سے سیاسی تقرریوں کی نذر ہوتا رہا ہے جہاں میرٹ کے بجائے سیاسی وفاداریوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب ادارے کے سربراہ کا انتخاب جمہوری اور شفاف طریقہ کار کے بجائے اوپر سے مسلط کیا جائے تو اس کا نتیجہ اسی قسم کی متزلزل اور جذباتی گورننس کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک طرف شائقین کرکٹ ہیں جو اپنی ٹیم کے ساتھ جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور دوسری طرف ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، کیونکہ پاکستان نے دنیا کو جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس اور یونس خان جیسے لیجنڈز دیے ہیں۔ مسئلہ ہمیشہ سے انتظامی اور گورننس کا رہا ہے جو اس پورے ڈھانچے کا سب سے کمزور ستون ہے۔ اس تمام صورتحال میں مبصرین کا ماننا ہے کہ فیصلے کرتے وقت زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا اور غصے میں آ کر ایسے فیصلے کیے گئے جو ٹیم کو سنبھالنے کے بجائے مزید دباؤ میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی، جو کہ وزارت داخلہ اور دیگر اہم ریاستی امور کی ذمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے ہیں، کرکٹ بورڈ کے معاملات کو وہ وقت اور توجہ دینے سے قاصر نظر آتے ہیں جو اس منصب کا تقاضا ہے۔ اس مصروف ترین شیڈول کی وجہ سے کرکٹ انتظامیہ میں مبینہ طور پر بے توجہی اور ترجیحات کا بحران پیدا ہو چکا ہے، جس کا خمیازہ قومی ٹیم کو بین الاقوامی سطح پر بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اب جب کہ ٹیم برمنگھم میں آخری ٹیسٹ میچ کی تیاری کر رہی ہے، کھلاڑیوں پر دباؤ انتہا کو چھو رہا ہے۔ ٹیم کے مورال کو بحال کرنے اور مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ نے اس سے بھی زیادہ تاریک ادوار دیکھے ہیں جن میں 2002 کا شارجہ ٹیسٹ یا 2009 اور 2010 کے سانحات شامل ہیں، جن سے ٹیم ہمیشہ مضبوط ہو کر باہر نکلی۔ موجودہ چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عارضی اور جذباتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی اور میرٹ پر مبنی پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ پاکستانی کرکٹ کو اس کے اصل مقام پر واپس لایا جا سکے۔