Business
پیسٹیسائڈز ریگولیشن کے لیے نیا ڈیجیٹل فریم ورک متعارف
نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے کیڑے مار ادویات کے ضابطے کے لیے ایک جدید اور ڈیجیٹل فریم ورک کا اعلان کیا ہے۔ نیا نظام 1971 کے پرانے قوانین کی جگہ لے گا اور سائنسی بنیادوں پر رسک اسسمنٹ کرے گا۔
اسلام آباد میں نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (NAFSA) نے کیڑے مار ادویات اور زرعی کیمیکلز کے لیے ایک جدید، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں زرعی ادویات کے استعمال، تیاری اور تجارت کو بہتر بنانا اور کسانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اس نئے نظام کے نفاذ کے لیے این اے ایف ایس اے ایکٹ 2026 تیار کیا گیا ہے جو کہ پرانے زرعی پیسٹیسائڈز آرڈیننس 1971 اور اس کے تحت بننے والے قوانین کی جگہ لے گا۔ نیا ڈیجیٹل فریم ورک زرعی شعبے میں شفافیت لانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ نیا نظام پیسٹیسائڈز کی رجسٹریشن، درآمد اور برآمد، مینوفیکچرنگ، فارمولیشن، ڈیلر لائسنسنگ، پیکجنگ، لیبلنگ، سٹوریج اور سیفٹی کے تمام امور کو جدید خطوط پر استوار کرے گا۔ اس کے علاوہ لیبارٹری ٹیسٹنگ، انسپکشن اور کسانوں یا متعلقہ فریقین کی طرف سے موصول ہونے والی شکایات کے حل کے لیے بھی موثر ڈیجیٹل میکانزم تشکیل دیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کی گنجائش نہ رہے۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ نیا فریم ورک محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں جدید سائنسی بنیادوں پر رسک اسسمنٹ (خطروں کا تخمینہ) بھی متعارف کروایا جائے گا۔ اس سے نہ صرف معیاری زرعی مداخل کی فراہمی یقینی بنے گی بلکہ ماحولیاتی اور انسانی صحت کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ڈیجیٹل ماڈل کے ذریعے زرعی منڈی میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کے کاروبار پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیابی ملے گی، جس سے بالآخر ملکی زراعت اور کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔