World
امریکہ اور ایران کا بحری تصادم، ایرانی ٹینکرز پر حملے
امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی میں خطرناک موڑ آ گیا ہے جہاں پاسداران انقلاب کے مبینہ حملے کے بعد امریکی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز اور ملحقہ سمندری حدود میں فائرنگ کے تبادلے سے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان سمندری حدود میں براہ راست جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے مبینہ طور پر امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی فوج نے فوری طور پر بھرپور جوابی کارروائی کی۔ اس تصادم کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور اس کے قریب واقع پانیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور عالمی امن کے لیے ایک نیا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ایرانی فورسز کی جانب سے مبینہ میزائل حملوں کے جواب میں امریکی ملٹری نے کم از کم تین ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔ یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں رونما ہوئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی سے سیاسی اور عسکری محاذ آرائی عروج پر تھی۔ دونوں ممالک کی بحری افواج کے مابین فائرنگ کے تبادلے اور جہازوں پر حملوں کی خبروں نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی اور بحری سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
عالمی رہنماؤں نے اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں اس طرح کے عسکری تنازعات کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور بین الاقوامی ادارے اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر غور کر رہے ہیں۔