World
امریکی حملوں پر ایران کا سخت انتباہ، تیز اور تکلیف دہ جواب کا اعلان
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے کسی بھی نئے حملے کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تیز رفتار ہوگا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر تہران نے اپنی عسکری تیاریاں بھی مزید تیز کر دی ہیں۔
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج کی جانب سے ایران پر کوئی نیا حملہ کیا گیا تو تہران کا ردعمل ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز، بھاری اور تکلیف دہ ہوگا۔ ان کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ عسکری جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں خلیجی اور سمندری علاقوں میں بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایرانی تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی نیوی اور زمینی افواج کے کمانڈرز نے بھی کسی بھی ممکنہ دشمن کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی مکمل تیاری کا اعادہ کیا ہے۔ ایران کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت چوکنا ہیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس دوران تہران نے امریکی دباؤ کو کم کرنے اور دشمن کی حکمت عملی ناکام بنانے کے لیے نئی جنگی حکمت عملیوں پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ خطے کے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان الفاظ کی جنگ اور عسکری تیاریاں اس بات کی غماز ہیں کہ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر حل تلاش کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور خطے کے دیگر ممالک کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگ کو روکا جا سکے جو کہ عالمی معیشت اور خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔