World
انڈونیشیا: کراکاتوا آتش فشاں کا دھماکہ، پروازیں معطل اور اسکول بند
انڈونیشیا میں ماؤنٹ انک کراکاتوا کے آتش فشاں میں دھماکے کے بعد راکھ اور پتھروں کے اخراج سے اہم ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ حکام نے خطے میں سکیورٹی کے سخت اقدامات نافذ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں اور ماہی گیری کی سرگرمیوں کو بھی روک دیا ہے۔
انڈونیشیا میں آتش فشاں پہاڑ ماؤنٹ انک کراکاتوا میں ایک بار پھر شدید دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں فضا میں بڑے پیمانے پر راکھ اور پتھر بکھر گئے ہیں۔ اس قدرتی آفت کے باعث حکام کو ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے ملک کے ایک اہم ہوائی اڈے پر پروازیں عارضی طور پر معطل کرنا پڑی ہیں۔ آتش فشاں سے اٹھنے والے دھوئیں اور راکھ کے بادلوں کی وجہ سے ہوائی گزرگاہوں کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا، جس کے پیش نظر مسافروں کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ اور حکام کے مطابق اس آتش فشاں دھماکے کے بعد ارد گرد کے علاقوں میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ سمندر میں ماہی گیری کی سرگرمیوں پر بھی عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ زلزلہ کی سرگرمیوں میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، تاہم کراکاتوا اب بھی انتہائی فعال حالت میں ہے اور کسی بھی وقت مزید دھماکے ہو سکتے ہیں۔
انڈونیشیا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو گھروں کے اندر رہنے اور منہ پر ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے تاکہ زہریلی راکھ سے بچا جا سکے۔ ریسکیو ٹیمیں اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ بین الاقوامی پروازوں کے راستے بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں تاکہ راکھ کے بادلوں سے ہوائی جہازوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا 'رنگ آف فائر' پر واقع ہونے کی وجہ سے زلزلوں اور آتش فشانوں کے لحاظ سے انتہائی حساس خطہ ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی ہدایات پر عمل کریں۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ فضائی حالات بہتر ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔