LIVE
Loading Breaking News...

آن لائن فٹنس سپلیمنٹ کھانے سے نوجوان شدید ذہنی مریض بن گیا

News Image
برطانیہ میں جسم بنانے کی چاہ میں آن لائن منگوائے گئے فٹنس سپلیمنٹس کے استعمال سے ایک نوجوان شدید ذہنی توازن کی بیماری (سائکوسس) کا شکار ہو گیا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ سپلیمنٹس میں غیر قانونی طور پر سٹیرائڈز ملائے گئے تھے۔
آج کے دور میں نوجوان نسل میں جسم کو خوبصورت اور کٹا ہوا بنانے کا جنون اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے مارکیٹ میں دستیاب مختلف مصنوعات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ڈینیل مرفی نامی نوجوان نے آن لائن ایک عام فٹنس سپلیمنٹ خریدا تاکہ وہ اپنا وزن اور پٹھے بڑھا سکے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ فیصلہ اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا۔ مذکورہ سپلیمنٹ کے استعمال کے کچھ ہی عرصے بعد اس کی ذہنی حالت بگڑنا شروع ہو گئی اور وہ شدید سائکوسس (جنون یا ذہنی توازن کی خرابی) کا شکار ہو گیا۔ طبی ماہرین اور تحقیقاتی اداروں نے جب اس واقعے کی گہرائی میں جا کر جانچ پڑتال کی تو پتہ چلا کہ جو سپلیمنٹ ڈینیل نے آن لائن آرڈر کیا تھا، وہ دراصل ناقص اور ملاوٹ شدہ تھا۔ اس پروڈکٹ میں خفیہ طور پر خطرناک سٹیرائڈز اور دیگر نقصان دہ ادویات شامل کی گئی تھیں، جن کے بارے میں مینوفیکچرز نے کوئی لیبلنگ نہیں کی تھی۔ سٹیرائڈز کا اس طرح بے دردی سے اور بغیر طبی نگرانی کے استعمال انسانی اعصابی نظام اور دماغ پر انتہائی منفی اور تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ ڈینیل کے اہل خانہ کے مطابق، اس کی حالت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ اسے فوری طور پر طبی امداد اور نفسیاتی اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ملاوٹ شدہ مصنوعات آج کل آن لائن مارکیٹ میں دندناتے پھر رہی ہیں، جن پر حکومتی اداروں کا کوئی مؤثر کنٹرول نہیں ہوتا۔ ماہرین صحت نے تمام نوجوانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے آن لائن فٹنس سپلیمنٹس، پروٹین پاؤڈرز یا ادویات کے اندھا دھند استعمال سے گریز کریں۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ جسمانی ساخت کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ مستند ماہرینِ غذائیت اور کوچز کی ہدایت پر عمل کریں اور کسی بھی غیر معروف برانڈ کی مصنوعات کو خریدنے سے پہلے اس کی اصلیت کی مکمل تسلی کر لیں۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے ایک بار پھر آن لائن سپلیمنٹس کی خرید و فروخت کے حوالے سے حفاظتی قوانین پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔