Business
مشرق وسطیٰ کشیدگی اور حصص بازار کی صورتحال
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جا رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت مختلف حصص بازاروں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ بعض مقامات پر ہلکی خریداری کا رجحان بھی دیکھا گیا۔
عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بگڑتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے اثرات اب مالیاتی منڈیوں پر بھی صاف نظر آنے لگے ہیں۔ دنیا بھر کے حصص بازاروں میں اس تناؤ کے باعث مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ کچھ مقامات پر مخصوص حصوں میں خریداری کی بدولت بازار نے ہلکی بحالی کی کوشش کی، مجموعی طور پر مارکیٹ پر دباؤ برقرار ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بھی ہفتے کے اختتام پر منفی رجحان ریکارڈ کیا گیا جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ اس سے قبل ہفتے کے دوران بازار میں کچھ بہتری اور مثبت اشارے بھی ملے تھے اور انڈیکس میں اضافے کے ساتھ کچھ پوائنٹس کا سہارابھی ملا تھا، تاہم ہفتے کے آخری کاروباری دنوں میں عالمی منڈیوں کے منفی اشاروں اور مشرق وسطیٰ کی جنگی صورتحال کی وجہ سے شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی جوں جوں بڑھے گی، عالمی سپلائی چین، تیل کی قیمتوں اور مالیاتی منڈیوں پر اس کے منفی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار فی الحال کسی بھی بڑے رسک سے گریز کرتے ہوئے اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کی عکاسی اسٹاک مارکیٹوں کے حالیہ اعداد و شمار سے بخوبی ہوتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے بھی عالمی منڈیوں میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملکی معیشت کو کسی بھی بڑے جھٹکے سے محفوظ رکھا جا سکے۔