LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا آتش فشاں دھماکہ: ڈیڑھ لاکھ مسافر پروازیں منسوخ ہونے سے پھنس گئے

News Image
انڈونیشیا کے قریب آتش فشاں پھٹنے کے بعد فضائی حدود میں راکھ پھیلنے سے ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد مسافر پھنس گئے ہیں۔ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ پروازوں کی محفوظ بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انڈونیشیا میں ایک طاقتور آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد فضائی حدود میں خطرناک راکھ پھیل گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد ایئر لائن مسافر مختلف ائیرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ یہ واقعہ جাকার্তা کے قریب پیش آیا جہاں آتش فشاں کی سرگرمی میں اچانک تیزی آنے کے بعد حکام کو ہنگامی اقدامات اٹھاناپڑے ہیں۔ راکھ کے بادلوں کی وجہ سے ہوا بازی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے اور مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد پروازیں تاخیر کا شکار یا مکمل طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔ متعلقہ ایوی ایشن حکام کے مطابق، آتش فشاں کی راکھ جیٹ انجنوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر متاثرہ فضائی حدود میں پروازوں کی آمدورفت عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔ اس اچانک بحران کی وجہ سے جাকার্তা اور گردونواح کے ائیرپورٹس پر مسافروں کا شدید رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ہزاروں افراد اپنی پروازوں کی بحالی کے منتظر ہیں۔ ایئر لائن کمپنیاں پھنسے ہوئے مسافروں کو متبادل انتظامات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم فضائی راستے کھلے تک صورتحال کشیدہ رہنے کا خدشہ ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، انڈونیشیا دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں زلزلوں اور آتش فشانوں کی سرگرمیاں معمول کا حصہ ہیں، لیکن حالیہ دھماکے نے سفری شیڈول کو بری طرح درہم برہم کر دیا ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ائیرپورٹس کا رخ کرنے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئر لائنز سے پروازوں کی تازہ ترین صورتحال معلوم کریں۔ حکومت اور امدادی ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی فضا صاف ہو گی، فلائٹ آپریشنز کو مرحلہ وار بحال کر دیا جائے گا۔