World
مغربی کنارے میں اسرائیلی پرچموں کے ذریعے تسلط کی نئی حکمت عملی
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کار فلسطینیوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے اب پرچموں کو ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس بصری نوآبادیاتی حکمت عملی کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے اپنے ہی وطن میں مہمان محسوس کروانا ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر اپنا غلبہ اور تسلط جمانے کے لیے اب ایک نیا اور انوکھا حربہ استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اسرائیلی پرچموں کو بڑے پیمانے پر آویزاں کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو ماہرین بصری نوآبادیات کا نام دے رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد مقامی فلسطینی آبادی کو نفسیاتی طور پر دباؤ میں لانا اور انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ وہ اپنے ہی آبائی وطن میں محض مہمان کی حیثیت رکھتے ہیں۔
حالیہ مہینوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی پرچموں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان پرچموں کو اہم شاہراہوں، پہاڑی چوٹیوں اور یہاں تک کہ فلسطینی دیہات کے قریب زبردستی نصب کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کا مقصد نہ صرف زمینی حقائق کو تبدیل کرنا ہے بلکہ فلسطینیوں کے روزمرہ کے ماحول پر بھی اپنا کنٹرول مسلط کرنا ہے تاکہ وہ مسلسل خوف اور بے بسی کے عالم میں رہیں۔
فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی باشندوں نے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حرکات کا مقصد صرف علاقے میں کشیدگی کو ہوا دینا اور فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے جبری بے دخل کرنے کے لیے سازگار ماحول تیار کرنا ہے۔
بین برادری اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔ جب تک زمینی سطح پر اس طرح کے جبری تسلط اور بصری نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کا سلسلہ جاری رہے گا، مغربی کنارے میں امن اور استحکام کی توقع کرنا انتہائی مشکل اور ناپائیدار ثابت ہوگا۔