World
اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری اور جنگ بندی کی خلاف ورزی
اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں متعدد دیہات کو بمباری کرکے اڑا دیا ہے۔ اس تازہ ترین فوجی کارروائی سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں کرتے ہوئے کئی قصبوں اور دیہات کو بمباری کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔ یہ کارروائیاں جون میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس سے علاقائی امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ مقامی ذرائع اور مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران جنگ بندی کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان وقفے وقفے سے کشیدگی جاری رہی ہے، تاہم تازہ ترین دھماکوں اور بمباری نے صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان کے متاثرہ علاقوں میں شہری آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بہت سے لوگ محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوجی دستوں کی طرف سے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا عمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی برادری خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں جاری رہنے سے جنگ بندی کا معاہدہ مکمل طور پر ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے خطے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب، لبنانی حکومت اور متعلقہ حکام نے اس سنگین خلاف ورزی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ لبنانی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے جاری حملے بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی شرائط کی کھلی پامالی ہیں جنہیں مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ خطے کو ایک اور بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق کے پیش نظر امن کی بحالی کی راہ میں مشکلات حائل ہیں۔