World
امریکہ میں امیگریشن گرفتاریوں کا ریکارڈ: جولائی میں پچاس ہزار گرفتار
رواں برس جولائی کے مہینے میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کے اداروں نے ریکارڈ کارروائیاں کرتے ہوئے اوسطاً ہر چونتیس سیکنڈ میں ایک شخص کو گرفتار کیا۔ جیو پولیٹیکل تجزیہ کار اس لہر کو تاریخ کی سب سے خاموش اور تیز ترین ماس ڈیپورٹیشن مہم قرار دے رہے ہیں۔
امریکہ میں تارکین وطن کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران انتہائی حیرت انگیز اور ریکارڈ توڑ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئس کے ایجنٹس نے جولائی کے مہینے میں تیزی سے کارروائیاں کرتے ہوئے تقریباً پچاس ہزار افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران گرفتاریوں کی رفتار اتنی تیز تھی کہ اوسطاً ہر چونتیس سیکنڈ میں ایک فرد کو گرفتار کیا گیا، جو کہ حالیہ ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔
اس بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں کے پیچھے حکومتی اداروں کی سخت حکمت عملی کارفرما ہے جس کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ریاستوں میں چھاپے مارے گئے اور ان کارروائیوں کو انتہائی خفیہ اور منظم طریقے سے انجام دیا گیا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تیزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم حکومتی ذرائع کا اصرار ہے کہ یہ تمام اقدامات ملکی قوانین کے دائرہ کار میں رہ کر کیے جا رہے ہیں۔
اس ریکارڈ ماہ کے دوران ہونے والی کارروائیوں کے بعد ملک بھر میں تارکین وطن کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ قانون کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر گرفتاریوں کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں ڈیپورٹیشن کے اعداد و شمار میں مزید نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی کے رہنماؤں کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لیے کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں تاکہ اس اچانک اور بڑے کریک ڈاؤن کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور متاثرین کو حقوق فراہم کیے جا سکیں۔