World
مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ کو منشیات کیس میں سزائے موت
قاہرہ کی ایک عدالت نے منشیات اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کے جرم میں معروف مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت بارہ ملزمان کو سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ملک میں منشیات کے خلاف جاری سخت کارروائیوں کا حصہ ہے۔
قاہرہ کی ایک عدالت نے مصری میڈیا کی معروف شخصیت اور ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے۔ اس اہم عدلتی فیصلے میں سارہ خلیفہ سمیت کل بارہ افراد کو سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے، جن پر منشیات کے ایک بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک کو چلانے اور اس کی معاونت کرنے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ مقدمہ ملک میں منشیات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کی جانے والی سخت ترین تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ مصری حکام گزشتہ کچھ عرصے سے منشیات کے اس گروہ کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے، جنہیں اب منطقی انجام تک پہنچایا جا رہا ہے۔
اس ہائی پروفائل مقدمے نے مصری میڈیا اور عوام میں سنسنی پھیلا دی ہے، کیونکہ سارہ خلیفہ کا تعلق ٹی وی انڈسٹری سے ہے اور وہ ایک جانی پہچانی میزبان کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ استغاثہ کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے شواہد سے یہ بات واضح ہوئی کہ ملزمان منظم طریقے سے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے اور اس گھناؤنے کاروبار سے بھاری منافع کما رہے تھے۔ عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد یہ سخت فیصلہ صادر کیا، جو ملک میں منشیات فروشوں کے خلاف ایک واضح پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، مصری عدلیہ نے منشیات کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے زیرِ عتاب آنے والے افراد کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی۔ سارہ خلیفہ اور دیگر گیارہ ملزمان کو سنائی جانے والی اس سزا کے بعد دفاعی وکلاء کی جانب سے عدالتی کارروائی اور فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس وقت یہ فیصلہ پورے ملک میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے اور عوامی حلقوں کی جانب سے منشیات کے کاررواروں میں ملوث افراد کے خلاف اس قسم کے سخت فیصلوں کو سراہا جا رہا ہے تاکہ معاشرے کو اس تباہ کن بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔