LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کے اسرائیل نواز بستیوں سے منسلک کمپنیوں کے ساتھ اربوں کے معاہدے

News Image
برطانیہ کے سرکاری اداروں اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے منسلک سترہ کمپنیوں کے درمیان اربوں پاؤنڈ کے معاہدے سامنے آئے ہیں۔ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کے پاس دو اعشاریہ ایک ارب پاؤنڈ کے سرکاری ٹھیکے موجود ہیں۔
ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت اور سرکاری اداروں کے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے منسلک سترہ کمپنیوں کے ساتھ اربوں پاؤنڈ کے تجارتی اور سرکاری معاہدے موجود ہیں۔ اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ یہ کمپصیاں ایسی جگہوں سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں دنیا بھر میں غیر قانونی تسلیم کیا جاتا ہے۔ الجزیرہ کی تحقیقات کے مطابق ان سترہ کمپنیوں کے پاس مجموعی طور پر دو اعشاریہ ایک ارب پاؤنڈ کے برطانوی سرکاری ٹھیکے موجود ہیں۔ یہ معاہدے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح برطانوی ادارے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر متنازعہ علاقوں میں سرگرم کاروباری اداروں کے ساتھ مالی لین دین جاری رکھے ہوئے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے معاہدے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں۔ انہوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان معاہدوں کا جائزہ لے اور ان کمپنیوں کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات منقطع کرے جو غیر قانونی بستیوں کے قیام یا ان کی توسیعی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ابھی تک برطانوی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی حتمی پالیسی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس انکشاف کے بعد دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے پارلیمنٹ میں بھی اٹھائے جانے کا امکان ہے تاکہ برطانوی حکومت کی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔