Pakistan
ڈی ایچ اے کراچی جھگڑا کیس: نیا مقدمہ درج اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش
کراچی کے ڈی ایچ اے فیز 6 میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے پُرتشدد واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد متاثرہ خاتون کی مدعیت میں نیا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پولیس اہلکاروں کے غیر قانونی اقدام اور غفلت پر محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے فیز 6 میں گزشتہ ماہ ایک اپارٹمنٹ کے باہر پیش آنے والے پرتشدد واقعے کے سلسلے میں ایک نیا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے اپنے پڑوسیوں اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مبینہ طور پر تشدد کرنے اور ہراساں کرنے کے الزام میں کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب گزشتہ ہفتے اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں پولیس اہلکاروں کو ایک خاتون کو قابو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دوسری خاتون کے ہاتھ میں ڈبل ڈنڈا موجود تھا جس سے اس نے حملہ کیا۔ واقعے کی ابتدائی ایف آئی آر میں متاثرہ خاتون اور اس کے بھائی کو نامزد کیا گیا تھا، تاہم بعد میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ ابتدائی مقدمے کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں تھے اور رپورٹ نے اس ایف آئی آر کو ختم کرنے اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی۔ اس کے بعد 5 ستمبر کو درخشاں پولیس اسٹیشن میں ایک نیا مقدمہ درج کیا گیا جس کی کاپی میڈیا کو بھی موصول ہو چکی ہے۔ نئی ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ 20 اگست کی رات گئے ان کے گھر کی بیل بجائی گئی اور بتایا گیا کہ پڑوسی انہیں نیچے بلا رہے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد پڑوسی خاتون غصے کی حالت میں اوپر آئیں اور دروازہ پیٹنے لگیں۔ مدعیہ کا الزام ہے کہ دروازہ کھولنے پر انہیں اور ان کی والدہ کو بالوں سے گھسیٹا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے موبائل فونز بھی چھین لیے گئے۔ مزید برآں، ملزمہ اپنی بیٹی اور چند پولیس اہلکاروں کے ہمراہ دوبارہ آئیں اور ڈبل ڈنڈے سے حملہ کیا۔ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس پورے تنازع کی جڑ پارکنگ کا ایک معمولی جھگڑا تھا جو کہ کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جنواری کی ساس اور دوسرے رہائشی کے درمیان شروع ہوا تھا۔ رپورٹ میں سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ثاقب، حیدر سلطان، تیمور احمد اور عامر سہیل کے طور پر کی گئی ہے جو مبینہ طور پر ایس ایس پی کورنگی کے نجی بنگلے پر تعینات تھے۔ رپورٹ میں درخشاں تھانے کے ایس ایچ او اور دیگر ذمہ داران کی جانب سے بغیر ثبوت کے گرفتاریاں کرنے کو بھی انصاف کا قتل قرار دیا گیا ہے اور اعلیٰ حکام کو سفارش کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائیں۔