LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں آتش فشاں انک کراکاٹوا کا دھماکا، پروازیں اور اسکول بند

News Image
انڈونیشیا میں ماؤنٹ انک کراکاٹوا کا آتش فشاں پھٹنے سے فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی سرگرمیاں اور ماہی گیری عارضی طور پر روک دی ہے۔
انڈونیشیا میں ماؤنٹ انک کراکاٹوا (Mount Anak Krakatau) کے آتش فشاں سے ہونے والے طاقتور اخراج نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس قدرتی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے اتوار کے روز چھ ائیرپورٹس پر پروازوں کا عملہ معطل کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں جکارتا کے مرکزی ہوائی اڈے پر سینکڑوں پروازیں متاثر ہوئیں۔ حکام کے مطابق سوکارنو ہاتا انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آتش فشاں کی خطرناک راکھ کی وجہ سے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں مسافر ائیرپورٹ پر پھنس کر رہ گئے۔ ایئرپورٹ کے آپریٹر انگکاسا پورا کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس تعطل سے کل 301 پروازیں متاثر ہوئی ہیں جن میں 58 بین الاقوامی پروازیں بھی شامل ہیں۔ سنگاپور ائیرپورٹ اور دیگر ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز نے بھی جکارتا کے لیے اپنی پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار کر دی ہیں۔ آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد جاوا اور سماٹرا کے مختلف حصوں میں بلند و بالا راکھ کے بادل پھیل گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات بی ایم کے جی کے مطابق راکھ کے یہ بادل جاوا کی سمت میں 6 ہزار میٹر اور سماٹرا کی سمت میں 15 ہزار میٹر کی بلندی تک پہنچ گئے ہیں۔ اس اچانک صورتحال کی وجہ سے بہت سے مسافر جو کاروباری دوروں یا تعطیلات پر جانے کے خواہشمند تھے، ائیرپورٹ پر ہی پھنس گئے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ اور متعلقہ ائیرلائنز کی جانب سے پھنسے ہوئے مسافروں میں کھانا، ہلکا ناشتہ اور ہوٹلوں تک منتقلی کے لیے بسیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، ڈیزاسٹر مٹیگیشن ایجنسی (BNPB) نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے اتوار کے روز مصنوعی بارش برسانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ فضا میں موجود راکھ کو جلد از جلد صاف کیا جا سکے۔ بی این پی بی کے چیف نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اگر تیز بارش ہو جاتی ہے تو یہ راکھ جلد ختم ہو جائے گی جس سے معمولاتِ زندگی بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو گھروں میں رہنے، ماسک اور چشمے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ انڈونیشیا دنیا کے 'رنگ آف فائر' پر واقع ہے جہاں زلزلے اور آتش فشاں کے پھٹنے کے واقعات معمول کا حصہ ہیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی اسکولوں میں بھی تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں کیونکہ طلباء کو آنکھوں کی جلن کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔ حکام نے عوام سے پُرسکون رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔