LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی امریکہ کو وارننگ: مزید تکلیف دہ جوابی کارروائی کا اعلان

News Image
تہران نے امریکہ کے حالیہ حملوں کے بعد خبردار کیا ہے کہ اگر جارحیت کا سلسلہ نہ روکا گیا تو مزید تیز اور دردناک جواب دیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے واضح کیا ہے کہ اب گیم کے اصول بدل چکے ہیں اور کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
تہران نے واشنگٹن کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے بند نہ کیے گئے تو ایران کی طرف سے مزید تیز، وزنی اور تکلیف دہ جوابی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایران پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور حالیہ بحری تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس سے خطے میں ایک نئے تنازع کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایرانی حکام اور عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ اب علاقائی اور عالمی سطح پر طاقت کے استعمال کے روایتی اصول مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا اور ہر جارحانہ اقدام کا بھرپور، تیز اور پہلے سے زیادہ دردناک جواب دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب، بین الاقوامی منڈیوں اور معاشی ماہرین نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری اس محاذ آرائی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی لائنز اور معاشی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ خطے میں موجود تمام متعلقہ ممالک اور عالمی ادارے اس بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ تہران اپنے دفاع اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہے، اور امریکہ کی طرف سے عائد کردہ معاشی دباؤ کے باوجود ایرانی موقف میں کوئی لچک دکھائی نہیں دے رہی۔ آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کا رخ کیا ہو گا، یہ آنے والے سیاسی و عسکری اقدامات پر منحصر ہوگا۔