LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کے غزہ جبری اخراج کے منصوبے اور ٹرمپ امن امن فارمولا

News Image
مسلم ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے غزہ میں جبری اخراج کے منصوبے خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے امن منصوبوں کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔
متعدد مسلم ممالک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے حوالے سے بنائے جانے والے جبری اخراج کے منصوبوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ عرب ذرائع کے مطابق یہ منصوبے نہ صرف فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور بقا پر ایک اور کاری ضرب ہیں بلکہ یہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور امن مذاکرات کا کوئی بھی موثر موقع ضائع ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ غزہ کی موجودہ صورتحال کا فوری طور پر سیاسی حل نکالا جائے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جو حالات کو مزید بگاڑنے کا باعث بنے۔ مسلم ممالک کے رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی اور ان کے علاقوں پر قبضے کے تمام منصوبوں کی بھرپور مخالفت جاری رکھی جائے گی تاکہ خطے میں انصاف اور پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔