Pakistan
اسلام آباد خود مختار وفاقی اکائی اور منتخب اسمبلی کا نیا مسودہ
وزارتِ منصوبہ بندی نے اسلام آباد کو ایک خود مختار وفاقی اکائی میں تبدیل کرنے کا مسودہ پیش کر دیا ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں ایک منتخب اسمبلی بھی قائم کی جائے گی۔ اس ضمن میں وفاقی کابینہ اور پارلیمانی کمیٹیوں نے مقامی حکومتوں کے نظام میں تبدیلی کے لیے مختلف بلوں اور تجاویز کی منظوری بھی دی ہے۔
وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی نے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے ایک اہم اور جامع مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت کو ایک خود مختار وفاقی اکائی میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس نئے منصوبے کا بنیادی مقصد اسلام آباد کے شہریوں کو انتظامی طور پر زیادہ اختیارات دینا اور دارالحکومت کے معاملات کو بہتر طریقے سے چلانا ہے۔ مسودے کی سب سے اہم خصوصیت یہاں ایک باقاعدہ منتخب اسمبلی کا قیام ہے جو مقامی سطح پر قانون سازی اور پالیسی سازی کے فرائض انجام دے گی۔ اس اقدام سے دارالحکومت کے دیرینہ انتظامی مسائل کے حل میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب دارالحکومت کے انتظامی مستقبل کے حوالے سے دیگر اہم پیش رفت بھی سامنے آئی ہیں جن میں مقامی حکومتوں سے متعلق امور سرِ فہرست ہیں۔ دی ایکسپریسن ٹریبون اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق مقامی حکومتوں سے جڑی نئی قانون سازی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاہم اس سے وفاقی دارالحکومت میں حلقہ بندیوں کی جاری مہم متاثر نہیں ہوگی۔ وفاقی کابینہ نے پہلے ہی اسلام آباد کے لیے تین کونس توازن پر مشتمل ایک نئے مقامی حکومت کے نظام کی منظوری دے دی ہے جو اس خطے میں نچلی سطح پر جمہوریت کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں اور پینلز نے بھی اسلام آباد کے مقامی گورننس کے ڈھانچے میں ترامیم سے متعلق بلوں کی منظوری دے دی ہے۔ جیو نیوز اور دی نیشن کی رپورٹس کے مطابق یہ تمام ترامیم اور مسودے وفاقی دارالحکومت میں ایک موثر، جوابدہ اور عوامی نمائندگی پر مبنی نظامِ حکومت نافذ کرنے کے وسیع تر حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ اگر یہ تجاویز قانون کی شکل اختیار کر لیتی ہیں تو اسلام آباد کی تاریخ میں یہ ایک بہت بڑی انتظامی تبدیلی ہوگی جہاں پہلی بار وفاقی دارالحکومت کے باسیوں کو اپنی الگ منتخب اسمبلی اور خود مختار نظامِ حکومت میسر آئے گا۔