Business
اوپیک پلس کا اکتوبر میں تیل پیداوار برقرار رکھنے کا فیصلہ
اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک نے عالمی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اکتوبر کے مہینے میں تیل کی پیداوار کی موجودہ پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال میں کمی متوقع ہے۔
اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک پر مشتمل گروپ اوپیک پلس نے باضابطہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اکتوبر کے مہینے کے لیے اپنی تیل کی پیداواری پالیسی کو بالکل برقرار رکھیں گے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس اہم فیصلے کا مقصد عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سپلائی کے حوالے سے مختلف خدشات پائے جاتے ہیں۔ وزرا کی سطح پر ہونے والے اس ورچوئل اجلاس میں مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس کے بعد یہ اتفاق رائے سامنے آیا کہ پیداواری کوٹوں میں فوری طور پر کسی قسم کی ردوبدل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں اور تجارتی حلقے آئندہ کے لائحہ عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار کو مستحکم رکھنے کے فیصلے کا بنیادی مقصد قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنا ہے۔ ایران کے حوالے سے اور دیگر جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے سپلائی کے معاملات میں جو خدشات پیدا ہو رہے ہیں، ان پر قابو پانے کے لیے بھی یہ حکمت عملی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ رکن ممالک کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کی اصل طلب اور رسد ہی آنے والے دنوں میں آئندہ کے فیصلوں کی اصل سمت طے کرے گی۔ اوپیک پلس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ کے حالات پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو مستقبل میں ہنگامی بنیادوں پر بھی فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اس پالیسی کے تسلسل سے سرمایہ کاروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کو ایک واضح پیغام مل گیا ہے کہ گروپ مارکیٹ کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔