LIVE
Loading Breaking News...

رابرٹ بش اثاثہ ضبطی کیس - سی پی ایس کا بڑا قدم

News Image
برطانوی استغاثہ نے بیس سال قید کی سزا پانے والے رابرٹ بش کے غیر قانونی اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم عوام سے لوٹی گئی رقم کی بازیابی اور مجرم کو اس کے جرائم کا مالی نقصان پہنچانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں دواساز اور جنازہ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والے رابرٹ بش کو جب عدالت کی طرف سے بیس سال قید کی سخت سزا سنائی گئی تو اس کے بعد قانونی اداروں نے ایک اور اہم محاذ پر کام شروع کر دیا۔ استغاثہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اب بنیادی مقصد یہ ہے کہ مجرم کی طرف سے جرائم کے ذریعے کمائی گئی تمام ناجائز دولت اور اثاثوں کا سراغ لگایا جائے اور انہیں ریاست کے قبضے میں لیا جائے۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف ان متاثرہ خاندانوں اور افراد کو کسی حد تک ریلیف دینا ہے جن کا مالی استحصال کیا گیا تھا۔ رابرٹ بش کے اس مکروہ فعل نے نہ صرف اخلاقی حدیں پار کیں بلکہ اس نے قانون کی آنکھ میں بھی دھول جھونکنے کی کوشش کی۔ استغاثہ کے مطابق مجرم نے اس گھناؤنے پیشے کی آڑ میں لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا اور کروڑوں روپے کی غیر قانونی جائیدادیں اور بینک بیلنس اکٹھا کیا۔ اب جبکہ وہ اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ سلاخوں کے پیچھے گزارنے جا رہا ہے، حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کا تہیہ کر لیا ہے کہ وہ جیل سے باہر آنے کے بعد یا اس دوران اپنی لوٹی ہوئی دولت سے کسی بھی صورت فائدہ نہ اٹھا سکے۔ क्राઉન پراسیکیوشن سروس یعنی سی پی ایس کی جانب سے دائر کی جانے والی نئی درخواستوں میں عدالت سے باقاعدہ اجازت طلب کی جا رہی ہے تاکہ مجرم کے تمام ملکی اور غیر ملکی اثاثے منجمد کر کے انہیں نیلام کیا جا سکے۔ اس عمل سے حاصل ہونے والی رقم کو ممکنہ حد تک متاثرین کی بحالی یا سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے گا۔ ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ اس قسم کے مالیاتی مقدمات میں کارروائی طویل ضرور ہوتی ہے لیکن اس سے مجرموں کے حوصلے پست ہوتے ہیں اور معاشرے میں یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ جرم سے حاصل کردہ دولت کا انجام ہمیشہ ضبطی ہی ہوتا ہے۔