LIVE
Loading Breaking News...

مغربی آزادی، روشن خیالی اور موجودہ عالمی سیاسی غصہ

News Image
پنکج مشرا نے اپنے نئے تجزیے میں موجودہ عالمی سیاسی غصے کی جڑوں کو روشن خیالی اور سامراجی دور میں تلاش کیا ہے۔ ان کے مطابق مغربی آزادی کے کھوکھلے وعدوں نے دنیا بھر میں شدید مایوسی اور طویل المدتی انتشار کو جنم دیا ہے۔
موجودہ دور میں پوری دنیا کے اندر جو سیاسی غصہ اور عدم استحکام پایا جاتا ہے، اس کی گہرائی میں کئی تاریخی عوامل کارفرما ہیں۔ ایک حالیہ تفصیلی تجزیے میں ممتاز مفکر اور مصنف پنکج مشرا نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح مغربی دنیا کی طرف سے آزادی، مساوات اور روشن خیالی کے وعدے کیے گئے تھے، لیکن عملی طور پر اس کے نتائج اس کے برعکس نکلے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ سیاسی اور سماجی بے چینی کا سراغ براہ راست روشن خیالی کے دور اور اس کے بعد آنے والے سامراجی تسلط سے ملتا ہے۔ تاریخ کے اس مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مغربی طاقتوں نے دنیا بھر میں جو نظام نافذ کیا، اس میں عام انسانوں کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ تجزیے کے مطابق، جب مغربی اقوام نے نوآبادیاتی نظام کے ذریعے دنیا کے بڑے حصے کو اپنے زیرِ نگیں کیا، تو انہوں نے اپنے مفادات کے تحت آزادی کے تصور کو محدود کر دیا۔ عام لوگوں کے دلوں میں یہ امید پیدا کی گئی تھی کہ روشن خیالی کا یہ نیا دور انہیں خوشحالی اور آزادی سے ہمکنار کرے گا، لیکن اس کے برعکس استحصالی پالیسیوں نے معاشروں میں خلیج کو مزید وسیع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بے چینی بڑھتی گئی، جو آج کے دور میں سیاسی غصے، قوم پرستی اور شدید احتجاج کی شکل میں ہمارے سامنے آرہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا کے یہ تضادات آج بھی عالمی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں۔ جب ترقی یافتہ ممالک عالمی سطح پر انصاف اور مساوات کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو اس سے دنیا بھر کے عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ موجودہ دور کے سیاسی رہنما اکثر اس عوامی غصے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ اس تمام صورتحال کا تقاضا ہے کہ تاریخ کی ان غلطیوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور عالمی سطح پر ایک منصفانہ نظام کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ دنیا کو مزید بحرانوں سے بچایا جا سکے۔