World
بھارت میں پولیس کی غنڈہ گردی، قتل کے ملزم کی سرعام سرزنش اور تشدد
بھارتی ریاست گجرات میں پولیس نے اپنی شریک حیات کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کو جائے وقوعہ پر سرعام لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بھارتی ریاست گجرات کے شہر بھون نگر میں پولیس نے اپنی شریک حیات کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو سرعام لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے اس اقدام پر جہاں کچھ حلقوں کی جانب سے حمایت کی گئی وہیں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت فیصل لکھانی کے طور پر ہوئی ہے جسے جمعہ کے روز مبینہ جرم کی جگہ پر تفتیش اور واقعہ کی دوبارہ تخلیق کے لیے لایا گیا تھا۔ اسی دوران پولیس اہلکاروں نے اسے سرعام تشدد کا نشانہ بنایا۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا सकता ہے کہ ملزم کے بازو رسیوں سے باندھے گئے ہیں اور ایک یونیفارم پہنے ہوئے پولیس اہلکار بانس کے ڈنڈے سے اس کی ٹانگوں اور جسم کے دیگر حصوں پر پے در پے وار کر رہا ہے۔ ملزم کو ایک بس ٹرمینل کے اندر بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی فوٹیج تیزی سے انٹرنیٹ پر پھیل گئی۔
اس واقعے کے بعد پولیس حکام کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس افسر ڈی پی انڈکاٹ نے بھارتی اخبارات کو دیے گئے بیان میں اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ تشدد اس لیے کیا تاکہ معاشرے میں ایک مثال قائم کی جا سکے کہ خواتین کے خلاف جرائم کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور کوئی دوسرا اس طرح کا جرم کرنے کی جرات نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات سے مجرموں کے دل میں پولیس کا خوف بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری جانب، بھون نگر کے پولیس چیف نتیش پانڈے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ کے واضح احکامات اور فیصلوں کے باوجود پولیس کی جانب سے ملزمان کو اس طرح سرعام پیٹنے اور پبلک پریڈ کرانے کے واقعات میں کمی نہیں آئی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے سے پہلے کسی بھی شخص پر اس طرح کا تشدد قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی متعدد صارفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملزم پر ابھی تک عدالت میں جرم ثابت نہیں ہوا ہے اس لیے پولیس کو قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔